اس مضمون میں
  1. پرتگال سے جزیرہ نما ایبریا تک
  2. تئیس ویرئیشن اور ساتھ دینے والے کی باری
  3. اسی رقص کی فرانسیسی موسیقی
  4. روم سے لندن پہنچنے والا شاگرد
  5. ویوالدی کی ایک اور فولیا
  6. جدید تار نوازوں کی قدموں کی ضرب
  7. ماہینا میں سننے والی موسیقی

مختصر جواب

کوریلی کی لا فولیا میں پرتگال سے آنے والا رقص وائلن اور ساتھ کے ساز کے ذریعے بدلتا ہے۔ کوریلی نے اسے 1700 کے وائلن سوناٹا مجموعے کے آخر میں رکھا۔ سست ویرئیشن کے بعد تیز آئے اور آخر میں ساتھ دینے والے ساز کو تیز نوٹس دیے۔ قدیم رقص کا مواد برتتے ہوئے سولو اور ساتھ دینے والے، دونوں سے مہارت مانگی گئی۔

تفصیلی مطالعہ

پرتگال سے جزیرہ نما ایبریا تک

فولیا کوریلی سے بہت پرانا رقص ہے۔ پرتگال سے نکلا اور ابتدائی مثالیں پندرہویں صدی میں آتی ہیں۔ بعد کے موسیقاروں نے بار بار بجا کر نئے ویرئیشن لگائے۔ کوریلی کے زمانے، سترہویں صدی کے آخر، تک اطالوی موسیقار بھی اسے مانوس مواد سمجھتے تھے۔ وائلن سوناٹا کے خالق کے نام کے پیچھے کئی نسلوں کے رقاصوں اور موسیقاروں کی منتقل رقص کی تاریخ ہے۔

فولیا آخری قرونِ وسطیٰ کے ایبریا کا عوامی رقص تھا۔ پرتگالی جڑیں تھیں، اسپین میں بھی رائج تھا، اور سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی ایبری سازوں کی موسیقی میں اہم جگہ تھی۔ ساوال نے مختلف زمانوں کی فولیا ایک البم میں جمع کی۔ کوریلی اور ماریں مارے کے ساتھ دیئگو اورتیس اور بے نام موسیقی بھی رکھی، اور مشہور خالقوں سے پہلے منتقل مواد بھی بجایا۔

البم کی ساز بندی میں رقص کو ساتھ دینے کی مختلف آوازیں ہیں۔ ساوال نے ویولا دا گامبا اور دوسروں نے ویہوئیلا، گٹار، تھیئوربو، ہارپسی کورڈ، آرگن اور ہارپ بجائے۔ ضربی نواز کے علاوہ کاسٹانیٹ اور گھنٹیاں بجانے والے بھی تھے۔ تار رگڑنے یا چھیڑنے والے، کی بورڈ اور ضربی نوازوں نے فولیا کی تکرار میں الگ آوازیں بڑھائیں۔ ایبری موسیقی کی ساوال کی پیشکش میں کوریلی کے وائلن سوناٹا سے زیادہ مختلف ساز ایک جگہ ہیں۔

تئیس ویرئیشن اور ساتھ دینے والے کی باری

کوریلی نے 1700 میں بارہ وائلن سوناٹا کو اوپس 5 میں شائع کر کے برانڈنبرگ کے انتخابی شہزادے کی اہلیہ سوفی شارلوٹے کے نام کیا۔ آخری اثر ڈی مائنر سوناٹا لا فولیا ہے۔ مجموعہ اٹھارہویں صدی میں چالیس سے زیادہ بعد کے ایڈیشن میں آیا۔ وائلن سیکھنے والوں کی موسیقی تھی، اور شاگرد جمینیانی نے اسے تاروں کے گروہ کے لیے بھی ترتیب دیا۔ ماہینا کی دوپہر اور شام میں پرسل کوارٹٹ کے البم کا اوپس 5، نمبر 12 ہے۔ پرسل کوارٹٹ نے مئی 1986 میں لندن کے سینٹ بارناباس گرجا میں اسے ریکارڈ کیا۔

لا فولیا کے دہراتے آکورد کی ترتیب ڈی مائنر میں۔
لا فولیا کے دہراتے آکورد کی ترتیب ڈی مائنر میں۔

لا فولیا کی مرکزی دھن کے بعد تئیس ویرئیشن ہیں۔ وائلن کبھی مختصر تیز اور کبھی طویل جڑے نوٹس بجاتا ہے۔ کوریلی نے تیز ویرئیشن کے درمیان سست رکھے تاکہ ایک دھن دہرانے کے دوران بھی رفتار اور کیفیت بدلیں۔ آخر میں باسو کونتینوئو پر تیز سیمی کویور نوٹس آتے ہیں۔ باسو کونتینوئو نچلی دھن اور آکورد سے سولو کا ساتھ دینے کا طریقہ ہے۔ اختتام میں ساتھ والے کے ہاتھ بھی تیز کرنے سے مہارت صرف وائلن نواز تک محدود نہیں۔

اسی رقص کی فرانسیسی موسیقی

کوریلی کے اگلے سال، 1701 میں، فرانس کے ماریں مارے نے ویولا دا گامبا کے دوسرے مجموعے میں فولیا رکھی۔ عنوان فولی دیسپانی، یعنی اسپین کی فولیا، تھا۔ انہوں نے بتایا کہ باسو کونتینوئو کو محنت سے سنوارا اور نوٹس کی کندہ کاری میں بھی طویل وقت لگا۔ اطالوی وائلن اور فرانسیسی ویولا دا گامبا نے قریب وقت میں ایک رقص استعمال کیا۔ مارے میں بتیس ویرئیشن ہیں، کوریلی سے نو زیادہ۔

آندرے بوئی کا فرانسیسی موسیقار ماریں مارے کا پورٹریٹ۔
آندرے بوئی کا فرانسیسی موسیقار ماریں مارے کا پورٹریٹ۔

مارے نے ویولا دا گامبا کے کئی تار ساتھ بجا کر آکورد بنانے کی خصوصیت برتی۔ سولو اور باس ساتھ کو باہم جوڑا، اور کچھ ویرئیشن میں گٹار کے تار جھاڑنے کی یاد والے صوتی نمونے رکھے۔ یہ گٹار جیسا اظہار ایبری رقص کی ابتدا سے بھی جوڑ کر سنا جا سکتا ہے۔ ایک فولیا کے باوجود وائلن کے تیز نوٹس اور ویول کے بھرپور آکورد کا استعمال الگ تھا۔ مارے نے اپنے ساز کے تار اور آکورد سے رقص سجایا۔

روم سے لندن پہنچنے والا شاگرد

کوریلی کے شاگرد فرانسسکو جمینیانی نے استاد کی موسیقی برطانیہ پہنچائی۔ روم میں سیکھ کر ستائیس برس میں لندن گئے اور بعد میں ڈبلن میں بھی کام کیا۔ لندن کے پہلے اجتماعی آثار نئے اپنے نہیں بلکہ کوریلی کے سوناٹا کی ترتیب تھے۔ وہاں کوریلی کی موسیقی مقبول تھی۔ جمینیانی نے وائلن سولو اور ساتھ کو تار نوازوں میں بانٹنے کے لیے بدلا۔

1752 کے پیرس کے وائلن سبق کی کتاب میں فرانسسکو جمینیانی کا پورٹریٹ۔
1752 کے پیرس کے وائلن سبق کی کتاب میں فرانسسکو جمینیانی کا پورٹریٹ۔

اجتماعی شکل میں جمینیانی نے اصل سوناٹا میں اشارے کے ہارمونی اور کاؤنٹرپوائنٹ کو پورا کیا۔ ساتھ چلنے والی دھنوں کا رشتہ بڑھا کر سولو اور ساتھ کی موسیقی زیادہ تار حصوں میں بانٹی۔ اصل میں ایک نواز کے حصے میں کئی ساز شریک ہوئے۔ بوسٹن باروک نے جمینیانی کا ایف میجر اجتماعی اثر بجاتے وقت کوریلی کے اصل سوناٹا کی آرائش استعمال کی۔ اس ایف میجر اور لا فولیا کو ایک البم میں رکھ کر مختلف سوناٹا کو اجتماعی موسیقی میں بدلنے کے دونوں نتائج پیش کیے۔

جمینیانی کی لا فولیا میں چند سولو اور بڑا تار گروہ باری باری بجاتے ہیں۔ چھوٹا گروہ کونچرتینو اور بڑا ریپیینو ہے۔ وائلن اور ساتھ کا مکالمہ دو گروہوں کے تبادلے تک بڑھا۔ 1749 کی اجرا کی کتاب میں جمینیانی نے یاد کیا کہ استاد لا فولیا کی تخلیق سے خاص مطمئن تھے۔ پرتگالی رقص کو سوناٹا بنانے والے کوریلی اور اسے زیادہ تاروں کو دینے والے شاگرد نے ایک موضوع کو الگ ساز بندی دی۔

ویوالدی کی ایک اور فولیا

ویوالدی نے بھی فولیا کے ویرئیشن بنائے۔ ایک مرکزی دھن اور انیس ویرئیشن ہیں۔ پہلی دھن قابلِ پہچان رہی اور تال، رفتار، زور، نوٹس ملانے یا الگ کرنے کے طریقے بدلے۔ ایک دھن دہراتے ہوئے بھی نوٹس کی مدت اور زور اور رفتار نئی متعین ہوئی۔ اس پرانے موضوع پر 150 سے زیادہ موسیقاروں نے لکھا۔ کوریلی، مارے اور ویوالدی کے مختلف ساز اور ویرئیشن کی تعداد چننے کا کام بعد میں بھی رہا۔

فرانسوا موریلوں دے لا کاو کا 1725 میں بنایا ہوا ویوالدی کا کندہ پورٹریٹ۔
فرانسوا موریلوں دے لا کاو کا 1725 میں بنایا ہوا ویوالدی کا کندہ پورٹریٹ۔

ویوالدی کی فولیا 1705 میں وینس کے ناشر جوزیپے سالا کے اوپس 1 میں ہے۔ مجموعے میں گھر کے اندر بجانے والے بارہ ٹریو سوناٹا ہیں۔ آخری فولیا ہے، جیسے کوریلی کے وائلن مجموعے کا آخر۔ یہ گھروں کی نجی موسیقی کی محفلوں میں بھی بجنے والی مجلسی موسیقی تھی۔ مشہور رقص کا مواد اشرافیہ اور موسیقی پسندوں کی مجلسی پیشکش کا آخری اثر بھی بنا۔

جدید تار نوازوں کی قدموں کی ضرب

امریکی خاتون موسیقار میچی ویانکو نے جمینیانی کی لا فولیا کی نئی ترتیب میں تار نوازوں کو ضربی ساز اور قدموں کی ضرب بھی دی۔ آرشے کے بال کے بجائے لکڑی سے تار بجانے کا کول لینیو اور برج کے پاس آرشہ چلانے کا سول پونتیچیلو شامل کر کے تار کی آواز بھی بدلی۔ دہراتی ہارمونی کے اوپر پورا گروہ اور سولو باری باری آتے ہیں، اور مختصر موتیف مختلف نوازوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ تار کے ساز اور نواز کے قدم ایک ہی نوٹس میں آئے۔

ویانکو نے 2021 کے پروگرام کے لیے گیارہ نوازوں کا نسخہ بنایا۔ حفظانِ صحت کے ضابطوں کے مطابق تعداد بدل کر ہر نواز کی موسیقی دوبارہ بانٹی۔ ایبری رقص کے موسیقاروں، کوریلی کے سولو اور ساتھ، جمینیانی کے دو تار گروہوں اور ویانکو کے قدم مارنے والے نوازوں تک فولیا کے جسم اور ساز بدلے۔ ماہینا کے پرسل کوارٹٹ میں اسی طویل تاریخ کے اندر کوریلی کے وائلن اور باسو کونتینوئو کے ویرئیشن ملتے ہیں۔ آخر کے ساتھ والے تیز نوٹس بھی ان کا مقرر حصہ ہیں۔

ماہینا میں سننے والی موسیقی

ماہینا کی موسیقی میں پرسل کوارٹٹ کی کوریلی کی لا فولیا ہے۔ ایک دھن کئی بار بدلتی ہے، اس لیے کھانے میں ایک دو فقرے سن کر بھی پہلے کی دھن کی تبدیلی کا موازنہ کرنے کا لطف لے سکتے ہیں۔