اس مضمون میں
مختصر جواب
راخمانینوف کی پاگانینی کی دھن پر ریپسڈی میں ویرئیشن نمبر 18 اصل وائلن کی دھن الٹ کر بنا ہے۔ اوپر جاتے نوٹس نیچے اور نیچے جاتے اوپر ہوں تو مائنر موضوع میجر گیت بن جاتا ہے۔ ماہینا کی دوپہر اور شام میں سیسیل اوسے کا بجایا یہ ویرئیشن ہے۔ مانوس دھن چوبیس ویرئیشن میں وہ حصہ ہے جہاں پہلے پیانو گیت سا بجاتا اور تار والے ساز اسے لیتے ہیں۔
تفصیلی مطالعہ
وائلن کاپریس کا لیا ہوا موضوع
پاگانینی نے بغیر ساتھ کے وائلن کا کاپریس نمبر 24، اے مائنر دھن اور گیارہ ویرئیشن سے بنایا۔ مختصر دھن کے آغاز میں چار تیز سیمی کویور نوٹس ہیں۔ راخمانینوف نے آخری کاپریس کا موضوع لے کر پیانو اور آرکسٹرا کے چوبیس ویرئیشن بنائے۔ ماہینا کی دونوں فہرستوں میں سالواتورے اکاردو کا کاپریس نمبر 24 بھی الگ ہے۔ ایک وائلن کا اصل اور پیانو و آرکسٹرا کی ریپسڈی، ایک ہی موضوع سے جڑے ہیں۔

راخمانینوف سے پہلے شومان، لسٹ اور برامس نے بھی پاگانینی دوبارہ لکھا۔ ایک وائلن نواز کی مہارت کے نوٹس پیانو کے سامنے خالقوں کا مواد بنے۔ راخمانینوف نے مختصر آغاز اور چوبیس ویرئیشن ایک مسلسل اثر میں جوڑے۔ اس آخری دور کی تخلیق میں پہلے سے مختصر اور نوکیلے صوتی نمونے اور بے آہنگی نمایاں ہیں۔ طویل گیت والے نمبر 18 کے گرد سولو اور آرکسٹرا کے تیز نوٹس بانٹنے والے ویرئیشن بھی ہیں۔
اجرا کے سفروں کے درمیان جھیل کا گھر
1917 کے آخر میں روس چھوڑ کر راخمانینوف اسٹاک ہوم اور کوپن ہیگن سے امریکہ گئے۔ پھر ہر سال کئی شہروں کے دورے والا پیشہ ور پیانو نواز کا کام شروع کیا۔ ریکارڈنگ بھی کی اور 1920 میں وکٹر سے پہلا معاہدہ کیا۔ 1930 میں سوئٹزرلینڈ کی لوسرن جھیل پر ولا سینار بنانے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل پروگراموں کے سفر والے موسیقار نے خاندان کے ساتھ گرمیوں کا گھر بنایا۔

راخمانینوف نے معمار سے کام کے کمرے کو گھر کا بہترین کمرہ بنانے کو کہا۔ جھیل کی بڑی کھڑکی چاہتے تھے اور نیویارک میں ملے نقشے پر فوراً رائے بھیجی۔ وال پیپر کے بجائے ہموار رنگی دیوار چاہی۔ 1934 میں نئے گھر جانے کے قریب اسٹائن وے کا ساٹھویں سالگرہ کا تحفہ گرینڈ پیانو بھی آیا۔ انہوں نے اسے کام کے کمرے میں رکھا۔ ریپسڈی مکمل ہونے کے موسمِ گرما کی زندگی میں معمار کے خط اور نیا پیانو ساتھ تھے۔
گھر بننا مکمل آسان نہ تھا۔ عالمی معاشی بحران میں نقصان کے بعد راخمانینوف نے جنوری 1933 میں نیویارک سے کام ملتوی کرنے کا تار بھیجا، پھر تین ہفتے بعد ڈھانچہ بنانے کا حکم دیا۔ جھیل کے پاس بڑی موٹر بوٹ لے کر پانی پر بھی وقت گزارتے تھے۔ اگلی گرمیوں میں ریپسڈی ختم کرتے ہوئے گھر کے خرچ کی بات سے اسے چھوٹا معاوضہ کہا۔ گھر کے کمرے میں موسیقی مکمل کرنے والے نے تعمیر کی رقم بھی ریپسڈی کے ساتھ جوڑی۔
موضوع سے پہلے ویرئیشن اور قدیم مذہبی دھن
ریپسڈی کے آغاز میں موضوع سے پہلے ویرئیشن نمبر 1 ہے۔ مختصر تمہید کے بعد پیانو اور آرکسٹرا پاگانینی کی دھن کی بنیاد والا باس دکھاتے ہیں۔ پھر وائلن کے دو گروہ ایک ہی نوٹس سے اصل موضوع بجاتے ہیں۔ مکمل دھن ابتدا میں نہیں بلکہ پہلے ویرئیشن کے بعد رکھی۔ خالق نے پوری وائلن دھن سنانے کے بجائے اس کی حمایت کے مختصر کم نوٹس پہلے دیے۔ موضوع آئے تو وائلن دھن اور پیانو زور بڑھاتا ہے۔
ویرئیشن نمبر 2 سے 5 تک تال کی قوت آگے لے جاتی ہے، اور نمبر 6 میں پیانو آزاد موسیقی بجاتا ہے۔ نمبر 9 کے تار کول لینیو، یعنی آرشے کی لکڑی سے تار بجانا، استعمال کرتے ہیں۔ سولو اور آرکسٹرا الگ تال سے مقابل ہوتے ہیں۔ پھر نمبر 10 میں مارچ کا مزاج اور نمبر 11 میں پیانو کی پُرشکوہ کادنزا ہے۔ ہر ویرئیشن میں اجرا، ضرب اور سولو کا کام بدل کر ایک موضوع سے کئی خصوصیات بنائیں۔
نمبر 7 میں آنے والا دیئس ایرے بعد کے ویرئیشن میں بھی دہرایا جاتا ہے۔ یہ قرونِ وسطیٰ کی منتقل مذہبی دھن ہے، جس سے کاتھولک عبادت میں موت اور حساب گائے جاتے تھے۔ راخمانینوف نے اسے پاگانینی کے موضوع کے ساتھ کئی حصوں میں رکھا۔ ریپسڈی کا قدیم مواد وائلن سولو اور عبادت کا گیت، دونوں ہے۔ ایک ساز کی مہارت جانچنے والی موسیقی اور کئی لوگوں کی گائی دھن پیانو اور آرکسٹرا کے ایک اثر میں باری باری آتی ہیں۔
سست حصے کے آخر کا ویرئیشن نمبر 18
درمیانی ویرئیشن نمبر 12 اور 13 ڈی مائنر کے تین ضربوں کے رقص بنتے ہیں۔ نمبر 14 اور 15 میں ایف میجر ہے، اور نمبر 15 زیادہ تر اکیلے پیانو کا ہے۔ نمبر 16 اور 17 کے بعد نمبر 18 میں ڈی فلیٹ میجر کی طویل دھن آتی ہے۔ تیز ویرئیشن اور کادنزا سے گزرے سولو نواز یہاں گیت کی طرح نوٹس ملاتے ہیں۔ ہر حصے کا سر اور ضرب چننے والے راخمانینوف نے نمبر 18 میں پیانو اور تاروں کو ایک دھن باری باری دی۔
نمبر 12 سے 18 کو کنسرٹو کے سست حصے کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے۔ سب سے طویل نمبر 18 ہے۔ پیانو پہلے بارہ میزان بجاتا، پھر تار شامل ہوتے ہیں۔ سولو کے گیت جیسے فقرے کو زیادہ تار لیتے ہیں تو ساز بندی بڑھتی ہے۔ نمبر 18 ختم ہو تو آخری چھ ویرئیشن آتے ہیں۔ ریپسڈی میں تیز آغاز، سست درمیان اور تیز آخر ایک اثر میں ہیں۔

نمبر 18 کی مرکزی ترکیب دھن کی الٹی سمت ہے۔ اوپر جانے کے وقفوں کو نیچے اور نیچے جانے کو اوپر لکھا۔ راخمانینوف نے سمت کی تبدیلی سے میجر آکورد ملائے۔ پاگانینی کے نوٹس ہوتے ہوئے بھی نمبر 18 نیا طویل گیت بنا۔ پیانو پر آندانتے کانتابیلے (Andante cantabile) کی ہدایت ہے۔ کانتابیلے کا مطلب گیت کی طرح بجانا ہے۔
پیانو دھن سادہ دیتا اور تاروں کے لینے کے بعد موسیقی زیادہ پھیلتی ہے۔ خالق نے پیانو کے تیز نوٹس کم کر کے طویل دھن دی۔ صرف سولو کا مسلسل گیت نہیں رکھا، بلکہ تاروں کے گروہ کو بھی وہی دھن دی۔ اصل وائلن کا موضوع الٹنا اور پیانو سے تاروں کی ساز بندی کی تبدیلی اس ویرئیشن میں ساتھ ہوتے ہیں۔
خالق کا پہلا اجرا اور بیلے
7 نومبر 1934 کو بالٹیمور کے پہلے اجرا میں راخمانینوف نے پیانو بجایا۔ لیوپولڈ سٹوکوفسکی نے فلاڈیلفیا آرکسٹرا کی قیادت کی۔ نیا اثر لکھ کر خالق نے اسے اپنے سفری پروگراموں میں شامل کیا۔ اسی سال فلاڈیلفیا کے ساتھ ریکارڈ بھی کیا۔ سوئٹزرلینڈ کی تکمیل کی گرمی اور امریکہ کے اجرا کی خزاں ایک سال میں آئیں۔ خالق کے طور پر لکھی سولو اور آرکسٹرا کی باری انہوں نے پیانو نواز کے طور پر خود بجائی۔

1939 میں میخائل فوکین نے ریپسڈی سے پاگانینی بیلے بنایا۔ راخمانینوف کی تجویز کی کہانی وائلن نواز کی شیطانی افسانے کی تھی۔ حیرت انگیز مہارت سے پھیلی افواہ اسٹیج کا قصہ بنی۔ لندن کے بیلے نے وائلن کے موضوع اور موت کی مذہبی دھن سے کردار اور حرکتیں جوڑیں۔ پاگانینی کا سولو، پیانو اور آرکسٹرا کے ویرئیشن سے گزر کر رقاصوں کی موسیقی بھی بنا۔
سینار میں گرنے سے زخمی ہونے پر راخمانینوف لندن کے کاونٹ گارڈن کے پہلے بیلے میں نہ آ سکے۔ اسی سال انہوں نے برطانیہ کے آخری پروگرام کیے اور سوئس گھر سے امریکہ گئے۔ اگست 1939 میں لوسرن میں بجانے کے بعد سینار ہمیشہ چھوڑ دیا۔ نمبر 18 لکھے گھر کی گرمیاں جنگ سے پہلے ختم ہوئیں، مگر ریپسڈی پیانو نوازوں، آرکسٹرا اور رقاصوں کے بجانے اور رقص کا اثر رہی۔
الگ بجنے والا ویرئیشن نمبر 18
آج نمبر 18 پوری ریپسڈی سے الگ بھی مقبول ہے۔ ناشر نے پیانو سولو، وائلن اور پیانو، چیلو اور پیانو اور لکڑی کے ہوائی ساز اور پیانو کی ساز بندیوں کے نوٹس چھاپے۔ پیانو اور آرکسٹرا کی بانٹی دھن دو نوازوں یا سولو کو دی گئی۔ ماہینا کی فہرست میں سیسیل اوسے کا نمبر 18 ہے۔ پاگانینی کی وائلن دھن کو الٹ کر تاروں تک دی گئی طویل موسیقی کھانے کی فہرست میں الگ اقتباس بنی۔
ماہینا میں سننے والی موسیقی
ماہینا کی دوپہر اور شام میں سیسیل اوسے کا ویرئیشن نمبر 18 ہے۔ پاگانینی کا کاپریس نمبر 24 بھی فہرست میں ہے، اس لیے دونوں سنیں تو اصل موضوع اور اسے الٹ کر بنی دھن کا موازنہ کر سکتے ہیں۔





